کولار:4؍ جنوری (ایس اؤ نیوز) کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کسی قانون کی حمایت میں کسی نے حکومت کی ستائش کرتے ہوئے ریلی نکالی ہو ؟ جی ہاں، بی جے پی اور اس کی ہمنوا پارٹیوں کے کارکنان آج کل ایسا ہی کرتے نظر آرہے ہیں، مرکزی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے اور شہری ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والوں کو جواب دینے یہ لوگ ریلیوں کا اہتمام کررہے ہیں، اسی طرح کی شہری ترمیمی قانون کی حمایت کرنے آج سنیچر کو کولار میں ریلی نکالنے کی کوشش کی گئی جس پر پولس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے کارکنوں کو منتشر کردیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق محکمہ پولس کی جانب سے ریلی کی اجازت نہ ہونے کے باوجود شہریت ترمیمی قانون کی حمایت میں بی جے پی کے کارکنان اور بھارتیہ ناگریک رکشھنا ویدیکے کے ممبران نے ریلی نکالنے کی کوشش کی جس پر ناراض پولس نے ہلکی ہی سہی لاٹھی چارج شروع کردیا اور احتجاجیوں کو تتر بتر کردیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بی جےپی ، وشوہندو پریشد اور بجرنگ دل سمیت سنگھ پریوار کے حمایتی اداروں پر مشتمل بھارتیہ ہت رکشھنا ویدیکے کی جانب سے شہر کے ایم جی روڈ کے چمپک سرکل پر بی جے پی حکومت کا حوصلہ بڑھانے اور شہریت قانون کی حمایت کرنے پولس سے عوامی جلسہ کی اجازت حاصل کی تھی البتہ محکمہ پولس نے احتجاجی ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ اجازت نہ دئے جانے کے باوجود جب سرکٹ ہاؤس پر جمع بھارتیہ رکشھنا ویدیکے کے ممبران اور بی جے پی کارکنان نے اقلیتوں کے اکثریتی علاقہ کلاک ٹاور روڈ سے گزرنے کے لئے آگے بڑھنے لگے تو پولس نے انہیں روکنے کی کوشش کی، اس پر مشتعل بی جےپی کارکنان نے پولس کے بیاری کیڈ کو گرا تے ہوئے پولس کے حصار کو توڑنے کی کوشش کی۔ اس دوران آپسی لفظی جھڑپ سے حالات کشیدہ ہوگئے ، حالات کو بگڑتے دیکھ کر پولس نے لاٹھی چارج شروع کردیا۔ سوشیل میڈیا پر وائرل ایک وڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ پولس نے کچھ ہی منٹوں کے لئے لاٹھی چارج کیا، اورپولس کی لاٹھی سے بچنے کی خاطر کارکنان بھاگنا شروع کردیا جس کے دوران کچھ لوگ نیچے بھی گرگئے ۔ ایسے میں بعض لیڈران معاملہ تھوڑا ٹھنڈا ہوتے ہی لاٹھی چارج پر ناراض پولس اہلکاروں کو آڑے ہاتھوں لیا اور لاٹھی چارج کرنے پر سخت ناراضگی ظاہر کی. کچھ ہی دیر بعد سنگھ پریوار کے کارکن دوبارہ جمع ہوتے ہوئے روڈ پر دھرنا دیا اور لاٹھی چارج کرنےوالے اہلکاروں کو معطل کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔اس دوران کولار دپٹی کمشنر منجوناتھ اور کولار ایس پی کارتھک ریڈی سمیت پولس کے دیگر اعلیٰ حکام نے حالات پر قابو پالیا۔
بتایا گیا ہے کہ لاٹھی چارج کے دوران سرکٹ ہاؤس میں موجود وزراء آر اشوک، ایچ ناگیش اور رکن پارلیمان ایس منی سوامی جائے وقوع پر نہیں پہنچے جس سے پارٹی کارکنان مزید مشتعل ہوگئے اور انہوں نے چمپک سرکل کے پروگرام میں وزراء اور رکن پارلیمان کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ کارکنان کو مطمئن کرنے جب اشوک اور منی سوامی آگے بڑھے تو کارکنان نے اُنہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ کارکنان نے کہاکہ اس پورے ہنگامے کے لئے رکن پارلیمان ذمہ دار ہیں، مشتعل بی جے پی کارکنوں کے مطابق مُنی سوامی کو ظاہری طورپر ہی سہی پولس کارروائی پر سوال اُٹھانا چاہئے تھا مگر انہوں نے پولس اہلکاروں کے لاٹھی چارج پر ایک لفظ نہیں کہا ۔ کارکنان نے اس موقع پر لاٹھی چارج کرنے والے پولس اہلکاروں کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر برداشت سے باہر رکن پارلیمان ایس مُنی سوامی نے ایک کارکن پر تھپڑ بھی جُڑ دیا۔